Hazrat Imam Hasan


  1. حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسن کا ایک دلچسپ اورمعارف سے
    بھرپورمکالمہ:
    ———————–چنانچہ باپ بیٹےسے پوچھتے ہیں –
    حضرت علی : راہ راست کیا ہے؟
    حضرت حسن : برائی کو بھلائی کے ذریعہ دورکرنا.
حضرت علی : شرافت کیا ہے؟
حضرت حسن : خاندان کوجوڑکررکھنااورناپسندیدہ حالات کو برداشت کرنا.
حضرت علی : سخاوت کیا ہے؟
حضرت حسن : فراخی اورتنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرنا.
حضرت علی : کمینگی کیا ہے؟
حضرت حسن : مال کو بچانے کے لئے عزت گنوابیٹھنا.
حضرت علی : بزدلی کیا ہے؟
حضرت حسن : دوست کو بہادری دکھانا
اوردشمن سے ڈرتے رہنا.
حضرت علی : مالداری کیا ہے؟
حضرت حسن : اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا، خواہ مال تھوڑا ہی کیوں نہ ہو.
حضرت علی : بردباری کیا ہے؟
حضرت حسن : غصے کو پی جانا اورنفس پر قابورکھنا
حضرت علی : بے وقوفی کیا ہے؟
حضرت حسن : عزت دارلوگوں سے جھگڑا کرنا.
حضرت علی : ذلت کیا ہے؟
حضرت حسن : مصیبت کے وقت جزع فزع کرنا.
حضرت علی : تکلیف دہ چیز کیاہے؟
حضرت حسن : لایعنی اورفضول کلام میں مشغول ہونا.
حضرت علی : بزرگی کیا ہے؟
حضرت حسن : لوگوں کے جرمانے ادا کرنا اورجرم کو معاف کرنا.
حضرت علی : سرداری کس چیز کا نام ہے؟
حضرت حسن : اچھے کام کرنا اوربرے امور ترک کردیا.
حضرت علی : نادانی کیا ہے؟
حضرت حسن : کمینے لوگوں کی اتباع کرنا اورسرکش لوگوں سے محبت کرنا.
حضرت علی : غفلت کیا ہے؟
حضرت حسن : مسجد سے تعلق ختم کرلینا اوراہل فساد کی اطاعت کرنا
————————————
امام اصفہانی  : حلیۃ الأولیاء : ۲/۳۶، المعجم الکبیر: ۳/۶۸